ولایت کی دو قسمیں ہیں ایک تکوینی اور دوسری تشریع اور ولایت فقیہ تشریعی ولایت کی ایک قسم ہے۔
تشریعی ولایت کی چار قسمیں ہیں:
الف۔ ولایت اللہ۔
ب۔ ولایت رسول اللہ۔
ج۔ ولایت معصوم (ع)۔
د۔ ولایت فقیہ ۔ (1)
غیبت کی دوران جامع الشرائط فقیہ ولایت اور قیادت کا عہدہ سنبھالتا ہے اور یہ بدیہیات اور عقلی ضروریات و مسلمات میں سے ہے۔
ولایت فقیہ ان موضوعات میں سے ہے جس کا تصور(2) اس کی تصدیق (3) کا باعث بنتی ہے اور جس کے لئے برہان و دلیل کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی۔ اور وہ یوں کہ اگر کسی شخص نے اسلامی عقائد و احکام کو اجمالی طور پر بھی وصول کیا ہو جب وہ ولایت فقیہ کے موضوع تک پہنچتا ہے اسی تصور کرے گا تو فوری طور پر اس کی تصدیق بھی کرے گا اور اس کو ضروری اور بدیہی سمجھے گا۔ (4)
ولایت فقیہ کے لئے عقلی اور نقلی دلائل
الف۔ عقلی دلیل: ولایت فقیہ کا عقلی اثبات چند مقدمات کے پیوند سے مسلم اور سب کے لئے قابل قبول بن جاتا ہے؛ یا یوں کہئے کہ جب ان مقدمات کو ایک دوسرے سے ملا دیا جائے تو ہر عقل سلیم ولایت فقیہ کی حقانیت کی تصدیق کرے گی:
مقدمہ 1۔ تمام اسلامی اور الہی احکام بشمول عبادی، سیاسی، سماجی، ثقافتی، معاشی (وغیرہ) احکام ـ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئے ہیں ـ ائمۂ طاہرین علیہم السلام کے دور میں باقی تھے اور غیبت کے زمانے میں بھی باقی اور لازم الاتباع ہیں کیونکہ رسول اللہ (ص) آخری نبی ہیں اور دین اسلام آخری اور مکمل ترین دین ہے۔
2۔ حکومت اسلامی ڈھانچے کا جزو ہے اور حکومت کے عدم تشکیل اسلامی و الہی احکام کی معطلی کے مترادف ہے۔
3۔ اسلامی تصور حیات میں طاغوتی حکام سے رجوع کرکے ان کے ذریعے حقوق کا حصول اور منازعات حل کرانا ممنوع اور حرام ہے حتی اگر کوئی شخص اپنا مسلمہ حق طاغوتی حاکم کے توسط سے حاصل کرے وہ بھی نامشروع (غیر شرعی اور غیر قانونی) ہے۔
4۔ اسلامی حاکم اور اسلامی حاکمیت کے لئے فقاہت، عدل، انتظامی صلاحیت وغیرہ جیسی صلاحیتیں مقرر کی گئی ہیں اور اگر کوئی شخص ان خصوصیات سے عاری ہوکر مسلمانوں کے امور کی باگ ڈور سنبھالے تو وہ طاغوتی حاکم ہوگا۔
5۔ خدائی حکیم کی حکمت سے بعید ہے کہ وہ اپنے بندوں کو حیران اور سرگشتہ چھوڑے تا کہ وہ افراتفری اور انارکی کے سائے میں زندگی گذاریں اور آخر کار فرعونی اور طاغوتی بھیڑیوں کے ہتھے چڑھ جائے اور ان کے لئے ترنوالہ بن جائیں۔ (5)
ان پانچ مقدمات کی روشنی میں ذاتی اغراض اور بے بنیاد و جاہلانہ تعصبات سے پاک عقل سلیم فیصلہ کرتی ہے کہ معاشرے کی چوٹی پر اسلام کے حیات بخش احکام و قوانین کے نفاذ کے لئے معاشرے کی چوٹی پر ولی فقیہ کا استقرار ناقابل انکار ضرورت ہے۔
ب ) نقلی دلائل: ولایت فقیہ کے اثبات کے لئے کثیر روایات اور احادیث موجود ہیں اور ہم یہاں اختصار کا لحاظ رکھتے ہوئے صرف دو نمونوں پر اکتفا کرتے ہیں:
امام زمانہ عجل اللہ فَرَجَہ الشریف شیعیان آل محمد (ص) میں سے ایک کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: و اما الحوادث الواقعۃ فارجعوا فیہا الی رواہ حدیثنا فانہم حجتی علیکم و انا حجۃ اللہ علیہم۔ (6)
حوادث اور پیش آنے والے واقعات میں ہماری حدیثوں کے راویوں سے رجوع کرو کیونکہ وہ تمہارے اوپر میری حجت ہیں اور میں ان پر خدا کی حجت ہوں۔
"حوادث واقعہ" سے مراد شرعی مسائل نہیں ہیں کیونکہ شرعی احکام میں فقہاء سے رجوع کرنا مسلمات اور بدیہیات میں سے ہے اور یہ کوئی تازہ بات نہیں ہے؛ حتی کہ ائمہ طاہرین (ع) کے زمانے میں بھی لوگ ان ہی کے حکم پر فقہاء سے رجوع کیا کرتے تھے؛ بلکہ حوادث واقعہ سے مراد معاشرتی اور سیاسی واقعات اور وہ حوادث و وقائع ہیں جو اسلامی معاشرے کو پیش آیا کرتے ہیں۔
اسی طرح "راویان حدیث" صرف حدیث نقل کرنے والے افراد نہیں ہیں بلکہ وہ فقہاء ہیں جو اجتہاد کے ذریعے حجت خدا کے واسطے سے مناسب راہ حل نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں "حجت اللہ" وہ ہے جس کو خداوند متعال نے بعض امور کی انجام دہی کے لئے مقرر فرمایا ہے اور اس کے تمام افعال و اقوال مسلمانوں کے لئے حجت ہیں۔ اگر وہ کسی کام کا امر کرے یا کسی کام سے نہی کرے اور لوگ اس کے احکام کی خلاف ورزی کریں خداوند متعال قیامت کے روز ان کے ساتھ احتجاج کرے گا اور ان سے بازپرس کرے گا کہ "تم نے اللہ کی حجت کے ہوتے ہوئے اسلامی حکومت کے امور میں طاغوت کے ظلم و ستم کے نظام سے رجوع کیوں کیا؟" (7)
امام حسین علیہ السلام نے منی میں خطبہ دیتے ہوئے علماء کو حکومت ضائع کرنے اور امور حکومت کو ظالمین کے حوالے کرنے کی بنا پر، عتاب و ملامت کے ساتھ مخاطَب قرار دیتے ہوئے فرمایا:
۔۔۔ مجاری الامور و الا حکام علی ایدی العلما ء باللہ الا مناء علی حلالہ و حرامہ ۔۔۔ (8)
معاشرے کا انتظام اور احکام کے نفاذ کی ذمہ داری علماء پر عائد ہوتی ہے جو حلال اور حرام میں خدا کے امین ہیں۔
ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام زمانہ (عج) کے زمانے میں ولی فقیہ اسلامی معاشرے کا زعیم اور رئیس ہے۔ جیسا کہ باشکوہ اسلامی انقلاب میں حضرت امام خمینی (رح)، ـ جو حقیقتاً با تدبیر منتظم، زیرک سیاستدان، باریک بین معاشرہ شناس، عادل و عامل عالم تھے، ـ نے جامع الشرائط فقیہ کے عنوان سے اسلامی حکومت کی تشکیل کا اہتمام کیا اور رسول اللہ (ص) اور ائمۂ طاہرین علیہم السلام کے تمام حکومتی اختیارات سے استفادہ کرکے غیبت کے زمانے میں پہلی اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی اور حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے امام کے راستے پر گامزن ہوکر اسلامی حکومت کا انتظام اسی شکوہ و عظمت کے ساتھ، سنبھالا اور دنیا والوں کو باور کرایا کہ اسلام تمام زمانوں میں انسان کی انفرادی اور معاشرتی زندگی کے انتظام کے لئے جامع پروگرام کا حامل ہے اور معاشرے کے انتظام کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
ولی فقیہ کی تقرر کی کیفیت: